کھیلوں والی دوپہر
تاش، ایک بورڈ، اور بہت سی باتیں۔ کھیل بہانہ ہے ایک ہی میز پر بیٹھنے کا۔

کوئی سنجیدہ سکور نہیں رکھتا۔ تاش کا کھیل تب تک چلتا ہے جب تک مزہ آئے، اور اس وقت ختم ہوتا ہے جب کوئی بات کرنا چاہے۔ اصل چیز میز ہے۔
جو رہائشی کھیلنا نہیں چاہتے وہ بھی کرسی اتنی قریب کھینچ لیتے ہیں کہ سنائی دے۔ رضاکار چال اسی وقت سمجھاتا ہے جب پوچھا جائے۔ جیتنا اس بحث سے کم دلچسپ ہے کہ باری کس کی تھی۔
مغرب سے پہلے بورڈ ہٹا دیا جاتا ہے تاکہ شام کے کھانے کے لیے جگہ بنے۔ مہرے ایک الماری میں رہتے ہیں۔ کوئی مہرا گم ہو جائے تو کھیل پھر بھی جاری رہتا ہے۔
